تمام اردو مضامین
Patient Education16 جولائی، 20264 منٹ

روزانہ واک: دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے کتنا اور کتنی تیزی سے چلیں؟

جانیں کہ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کتنی واک کرنی چاہیے اور کس رفتار سے۔ یہ آپ کے دل کی صحت کے لیے ایک سادہ مگر مؤثر قدم ہے۔

بذریعہ Dr Umar Shafique

ایک شخص پارک میں دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے تیز چل رہا ہے

بہت سے مریض پوچھتے ہیں کہ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے انہیں روزانہ کتنی اور کس رفتار سے واک کرنی چاہیے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہلکی پھلکی واک بھی آپ کے دل کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

کتنی واک کرنی چاہیے؟

زیادہ تر بالغ افراد کے لیے، ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی درمیانی درجہ کی ورزش تجویز کی جاتی ہے۔ اسے روزانہ کی واک میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہفتے میں پانچ دن 30 منٹ کی تیز واک اس ہدایت کو پورا کرتی ہے۔ اگر آپ ایک ساتھ 30 منٹ نہیں چل سکتے، تو اسے دن بھر میں 10-15 منٹ کے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کریں۔

آپ کو کتنا تیز چلنا چاہیے؟

"درمیانی درجہ" کا مطلب ہے کہ آپ چلتے ہوئے بات تو کر سکیں، لیکن گنگنا نہ سکیں۔ آپ کو محسوس ہونا چاہیے کہ آپ کے دل کی دھڑکن تھوڑی تیز ہوئی ہے اور سانس لینے میں بھی تھوڑی زیادہ محنت لگ رہی ہے۔ اسے اکثر تیز رفتار واک کہا جاتا ہے۔ اگر آپ صرف ٹہل رہے ہیں، تو یہ مجموعی صحت کے لیے اچھا ہے، لیکن دل کی صحت کے فوائد کے لیے تیز رفتار کی ضرورت ہے۔

باقاعدہ واک کے فوائد

باقاعدہ واک سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:

  • بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے
  • کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بناتی ہے
  • بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتی ہے
  • صحت مند وزن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے
  • ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے

یہ تمام عوامل دل کی بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔ مختصر، مستقل واک بھی بالکل غیر فعال رہنے سے بہتر ہے۔ اگر آپ نے ابھی ورزش شروع کی ہے تو آہستہ آہستہ شروع کریں اور پھر وقت اور رفتار میں اضافہ کریں۔

یاد رکھیں، مستقل مزاجی بہت اہم ہے۔ واک کو اپنی روزمرہ کی روٹین کا حصہ بنائیں، کسی قریبی مارکیٹ تک چل کر جائیں یا کسی مقامی پارک میں چہل قدمی کریں۔ اگر آپ کو دل کی کوئی بیماری یا صحت کے دیگر مسائل ہیں، تو کوئی بھی نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ دل کو صحت مند رکھنے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، آپ بلڈ پریشر کنٹرول اور کولیسٹرول کے کنٹرول جیسے دیگر موضوعات بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اگر آپ کو ورزش کے دوران سینے میں درد، شدید سانس پھولنا، یا غشی (فینٹنگ) کا سامنا ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔ ذاتی مشورے کے لیے، ڈاکٹر عمر شفیق سے مشورے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

سوال: کیا صرف واک دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے کافی ہے؟

جواب: جی ہاں، باقاعدہ تیز واک دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے ایک بہت مؤثر ورزش ہے، خاص طور پر جب اسے مستقل مزاجی سے اور درمیانی شدت کے ساتھ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذا کا خیال بھی ضروری ہے۔

سوال: اگر میں ایک ساتھ 30 منٹ تک واک نہ کر سکوں تو کیا کروں؟

جواب: کوئی بات نہیں! آپ اپنی واک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، جیسے دن بھر میں دو 15 منٹ کی واک یا تین 10 منٹ کی واک۔ اس کے فوائد پھر بھی حاصل ہوتے ہیں۔

سوال: میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میں درمیانی شدت سے واک کر رہا ہوں؟

جواب: اسے جانچنے کا ایک اچھا طریقہ "ٹاک ٹیسٹ" ہے۔ آپ چلتے ہوئے آرام سے بات کر سکیں، لیکن گانا نہ گا سکیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ہے اور معمول سے تھوڑا زیادہ سانس لینا پڑ رہا ہے۔

---

طبی وارننگ. یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں اور طبی مشورے کا متبادل نہیں ہیں۔ یہ کسی بھی پیشہ ورانہ طبی تشخیص، علاج، یا مکمل صحت یابی کا متبادل نہیں ہے۔ صحت کے کسی بھی مسئلے یا علاج سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیشہ کسی مستند صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے سے مشورہ کریں۔ یہاں پڑھی گئی کسی بھی معلومات کی وجہ سے پیشہ ورانہ طبی مشورے کو نظر انداز نہ کریں یا اسے حاصل کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ سینے میں درد، شدید سانس پھولنا، غشی، یا دیگر شدید جاری علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔

#واک#دل کی بیماریوں سے بچاؤ#ورزش#قلبی صحت#روزانہ کی سرگرمی